![]() |
اسلام آباد - ریڈیو پاکستان کی CBA یونین یونائیٹڈ سٹاف آرگنائزیشن کا ہنگامی اجلاس سنٹرل یونین آفس میں زیرِ صدارت چیئرمین احمد نواز خان منعقد ہوا۔ اجلاس میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں درختوں کی فروخت کے حوالے سے سینیٹر عرفان صدیقی کی طرف سے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو لکھے گئے خط اورمیڈیا میں ریڈیو پاکستان جیسے عظیم ادارے اور اس کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل کے خلاف جاری ہونے والی خبروں کا بغور جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں تمام یونین کے اراکین اس بات پر متفق تھے کہ درختوں کی نیلامی کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے اور کسی قسم کی کوئی بے قاعدگی نہیں پائی گئی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو لکھے جانے والا خط اور میڈیا میں جاری ہونے والی خبریں بے بنیاد،من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ مزید اس بات پر زور دیا کہ ریڈیو کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل کی کردار کشی ذاتی عناد کی بنیاد پر کی گئی جو کہ ایک نیک شہرت رکھنے والے دیانت دار،محنتی اور بے داغ سینئر آفیسر ہیں۔
اجلاس میں چیئرمین احمد نواز خان اور سیکریٹری جنرل محمدا عجاز نے اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حقائق جانے بغیر سینیٹر عرفان صدیقی کی طرف سے خط میں من گھڑت الزامات لگائے گئے اجلاس کو بتایا گیا کہ جن درختوں کی کٹائی اور فروخت کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے وہ چند ایک سوکھے سفیدے، جھاڑیاں اور جنگلی شہتوت کے درخت تھے جو کہ ناکارہ درخت تھے اور ان کی نیلامی کیلئے باقاعدہ اخبار میں اشتہار اور دو کمیٹیوں کے ذریعے تمام قانونی تضاضوں کو پورا کرتے ہوئے سو فیصد میرٹ پرکی گئی۔ دونوں کمیٹیاں سینئرذمہ دار افسران پر مشتمل تھیں۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ کاٹے جانے والے درختوں کی جگہ نئے تین سو سے زائد پودے بھی لگادیئے گئے ہیں اور مزید درخت مون سون میں بھی لگائے جائیں گے۔اخبارات میں شائع ہونے والا نیلامی عام درختاں اشتہار نمبر PID(1)4140/21 سابقہ وزیر اطلاعات و نشریات کی ہدایت پر PID(1)5087/21 کو منسوخ کر دیا گیا اور باقی جگہ نیلامی اس وقت کے وزیر کے حکم سے روک دی گئی تھی۔
اس موقع پر سیکرٹری جنرل محمد اعجاز نے کہا کہ گزشتہ سال ریڈیو پاکستان تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا تھا لیکن موجودہ ڈائریکٹر جنرل نے ادارے کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے کئی ٹھوس اور عملی اقدامات کئے نئے ٹرانسمیٹرز لگائے، ریڈیو پاکستان کی تمام عمارات کی تزئین و آرائش، ملازمین کو کئی سالوں سے رکے ہوئے میڈیکل بلز کی ادائیگی، کئی سالوں سے رکی ہوئی ملازمین کی عہدوں پر ترقیاں کرنے سمیت ذرائع آمدن بڑھانے کیلئے بھی مثبت عملی اقدامات کئے ہیں جوکہ قابل تحسین ہیں۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں ایسا سربراہ ادارے کو نہیں ملا جس نے ایسے جذبے سے انتہائی محنت، دیانتدار ی اور ایمانداری سے کام کیا ہو اور اس ادارے کی بہتری کیلئے دن رات کام کیا ہولہٰذا کسی صورت میں کسی کو بھی ڈائریکٹر جنرل کوبلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اورہر فورم پر پرزور آواز بلند کی جائے گی اور بھرپور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
آخر میں سی بی اے یونین نے وزیراعظم پاکستان سے پْرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر جو اداروں اور ان کے نیک نیت سربراہان کی ساکھ کو اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات کی خاطر بلاوجہ خراب کر رہے ہیں ایسے اشخاص کو باز رکھا جائے اور ان کے خلاف فی الفور سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ