Thursday, 23 April, 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

وزیراعظم شہباز شریف کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا


 اسلام آباد - وفاقی کابینہ نے ایوان صدر میں منعقد تقریب میں حلف اٹھا لیا۔ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے نئی کابینہ سے حلف لینے سے معذرت کے بعد چیئرمین سینیٹ اورقائم مقام صدر صادق سنجرانی نےنئی کابینہ سے حلف لیا۔ وفاقی کابینہ میں 30 وزرا ، 4 وزرائے مملکت اور3 مشیر شامل ہیں۔
 
وفاقی وزرا میں  مسلم لیگ ن سے خواجہ محمد آصف ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ، سردار ایاز صادق ، رانا تنویر حسین ، خرم دستگیر ، مریم اورنگزیب وفاقی وزیراطلاعات ونشریات، سعد رفیق ، جاوید لطیف ، ریاض حسین پیرزادہ ، مرتضی جاوید عباسی ، اعظم نزیر تارڑ وفاقی وزیر قانون وانصاف شامل ہیں۔

بلاول بھٹو برطانیہ جارہے ہیں واپسی پر وہ بطور وزیرخارجہ حلف اٹھائیں گے۔ پیپلز پارٹی سے خورشید شاہ وفاقی وزیر آبی وسائل، نوید قمر وزیر تجارت، شیری رحمان موسمیاتی تبدیلی کی وزیر ہوں گی۔ عبدالقادر پٹیل وزیرصحت ، شازیہ مری وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ، سید مرتضی محمود وزیر صنعت و پیداوار ، ساجد توری سمندر پار پاکستانی، احسان الرحمان وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ، عابد حسین بھائیو وزیر نجکاری ہوں گے۔

جے یو آئی سے مولانا اسعد محمود وزیر مواصلات ہوں گے جب کہ ایک اور وزیر عبدالواسع ہوں گے، مفتی عبدالشکور کو وفاقی وزیر مذہبی امور بنایا گیا ہے، سینیٹر طلحہ محمود وزیر سیفران جبکہ ایم کیو ایم سے سید امین الحق وفاقی وزیر آئی ٹی اور فیصل سبزواری بحری امور کے وزیر ہوں گے۔ اسرار ترین، شاہ زین بگٹی انسداد منشیات اور طارق بشیر چیمہ نے بھی حلف اٹھایا۔

وزرائے مملکت میں عائشہ غوث پاشا، حنا ربانی کھر وزیر مملکت خارجہ امور، عبدالرحمن خان کانجو اور مصطفے نواز کھوکھر وزیر مملکت قانون و انصاف شامل ہیں۔ قمر زمان کائرہ مشیر کشمیر امور، انجینئیر امیر مقام اور مفتاح اسماعیل مشیر ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3918
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 8 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی مذموم کوشش
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں