Thursday, 23 April, 2026
آئین کو ماننے والے جب تک ہیں، تنقید سے فرق نہیں پڑتا، چیف جسٹس پاکستان

آئین کو ماننے والے جب تک ہیں، تنقید سے فرق نہیں پڑتا، چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد - چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئین کو ماننے والے جب تک ہیں، تنقید سے فرق نہیں پڑتا، عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دیں اور اداروں کے ساتھ کھڑی رہی، قربانیاں دینے والوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت پیپلزپارٹی رہنما رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لازمی نہیں کہ پارٹی سے وفا نہ کرنے والا بے ایمان ہو، کاغذات نامزدگی میں دیا گیا حلف پارٹی سے وابستگی کا ہوتا ہے، اصل حلف وہ ہے جو بطور رکن قومی اسمبلی اٹھایا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ارکان کو پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہ دینے کا خوف دلاتا ہے، پاکستان میں چند دن پہلے وزیراعظم آئین کی سنگین خلاف ورزی کے لیے تیار تھا، لیکن استعفیٰ نہیں دیا، پارٹی سے انحراف پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوتا، آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف رکن ڈی سیٹ ہوتا ہے، نااہل نہیں، انحراف کی سزا رکنیت کا خاتمہ ہے مزید کچھ نہیں۔

جسٹس منیب اختر نے رضا ربانی سے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیکر آپ رو پڑے تھے، آپ نے تقریر میں کہا تھا کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہے، اگر مستعفی ہوجاتے تو کیا خیانت ہوتی؟ آپ نے کسی خوف کا اظہار نہیں کیا تھا۔ رضا ربانی نے کہا کہ استعفیٰ دینے کے بعد حالات کا سامنا نہیں کرسکتا تھا، استعفیٰ دینے کے لیے اخلاقی جرات نہیں تھی، استعفیٰ دینے کا مطلب سیاسی کیریئر کا خاتمہ ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تاریخ بتاتی ہے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دیں اور اداروں کے ساتھ کھڑی رہی، قربانیاں دینے والوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ ریفرنس میں دو بنیادی سوالات اٹھائے گئے ہیں، آرٹیکل 63 اے کے تحت ملنے والی سزا اور دوسرا کیا منحرف رہنما کی نااہلی تاحیات ہو گی یا نہیں۔

 وکیل نے دلائل دیئے کہ 63 اے کیساتھ 62 ون ایف کو بھی پڑھا جائے گا، پارٹی ہدایت کیخلاف ووٹ دینا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آئین کی خلاف ورزی کے کیا نتائج ہیں؟ کیا آئین کی ہر خلاف ورزی پر تاحیات نا اہلی ہے؟ کرپشن، رشوت کی بنا پر منحرف ہونا ثابت ہوجائے تو 62 ون ایف کا اطلاق ہوگا، وکیل منحرف ارکان کو ووٹ کی کوشش سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ووٹ کاسٹ ہوگا تب ہی چیئرمین کارروائی کرے گا۔

علی ظفر نے دلائل دیئے کہ منحرف رکن آئین، عوام اور سیاسی جماعت سے بے وفائی کرتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ نہ دینے والا بھی تو پارٹی سے انحراف کرتا ہے، آپ کہہ رہے ہیں 63 اے ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت تو دیتا ہے گننے کی نہیں۔

 علی ظفر نے دلائل دیئے کہ 63 اے کو شامل کرنے کا مقصد ہارس ٹریڈنگ ختم کرنا تھا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 95 پرعملدرآمد کے بعد ہی 63 اے پرعمل شروع ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل مخدوم علی خان کو سنیں گے، عید کی چھٹیوں کے بعد بابر اعوان کو سنیں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق بھی عدالت کے سامنے اپنی گزارشات رکھےگا، ابھی تک کابینہ نے اس کیس پر غور نہیں کیا۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کو اب کابینہ کے سامنے نہ ہی رکھیں، کوئی نیا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے دلائل مکمل کرلیے جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کی سماعت جمعہ ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  61910
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں