Thursday, 23 April, 2026
بلوچ بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں لاپتہ افراد کا معاملہ حل کریں گے، وزیراعظم

بلوچ بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں لاپتہ افراد کا معاملہ حل کریں گے، وزیراعظم

کوئٹہ - وزیراعظم شہباز شریف نے خضدار کچلاک قومی شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ماضی میں بلوچستان کو بری طرح نظر انداز کیا گیا، غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا، دہشتگردی نے پھر سر اٹھالیا، قومی یکجہتی سے امن کے دشمنوں کو شکست دیں گے، بلوچ بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں انصاف کی بنیاد پر لاپتہ افراد کا معاملہ حل کریں گے۔

وزیراعظم نے کوئٹہ کے ایک روزہ دورے کے موقع پر خضدار کچلاک قومی شاہراہ کے سیکشن ون اور ٹو کا سنگ بنیاد رکھ دیا، شہباز شریف کو ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ملاقات کی اور صوبے کے انتظامی امور، امن وامان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آج میرے لیے انتہائی اہم دن ہے، بلوچستان خود دار بلوچوں کا صوبہ ہے، خادم پاکستان کے طور پر بلوچستان میں موجود ہوں، جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے، بلوچستان میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا ہے، سوئی کی گیس سے پورا پاکستان مستفید ہوتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ترقیاتی اور خوشحالی بہت ضروری ہے، بلوچستان میں لاپتہ افراد کا بھی معاملہ ہے، وکلا نے بھی آج لاپتہ افراد  کا معاملہ اٹھایا، لاپتہ افراد کے معاملات کو حل کریں گے، اخترمینگل بھی بار بار لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھاتے ہیں، خلوص دل سے لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھاؤں گا، بلوچ بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں انصاف کی بنیاد پر لاپتہ افراد  کا معاملہ حل کریں گے، اگر ان معاملات کو حل نہیں کریں گے تو پھر محرومی، مایوسی رہے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیوں سے کوئی اختلاف رائے نہیں، مختلف وجوہات کی بنا پر بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا، خدارا شمالی اور جنوبی بلوچستان کے بیانیے کو ترک کر دیں، بلوچستان کے جس حصے میں بھی ناانصافی ہے وہاں مسائل کو حل کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کو جو قدرتی گیس سے فائدہ ہونا تھا وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے، بلوچستان میں بے پناہ معدنی وسائل موجود ہیں،صوبے میں پن بجلی کے بے شمارمنصوبے بن سکتے ہیں، یہاں بے شمار کوئلہ موجود ہے، بلوچستان کے وسائل کا پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا گیا، ریکوڈک کیس میں اربوں روپے ضائع ہو گئے، ریکوڈک کیس اجتماعی کارکردگی کا امتحان تھا جس میں ہم ناکام ہوئے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کیا ہم ماضی میں جھانکتے رہیں گے اور افسوس کرتے رہیں گے، ہمیں ماضی سے سبق حاصل کر کے آئندہ اتحاد اور اتفاق سے آگے بڑھنا ہوگا، دہشت گردی نے بلوچستان میں تباہی مچائی، خیبرپختونخوا، بلوچستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، بہادر افواج پاکستان نے دہشت گردی کو شکست فاش دی، حالیہ دنوں میں پھر دہشت گردی نے سر اٹھایا ہے، باہمی اتفاق سے دوبارہ دہشت گردی کو شکست فاش دیں گے۔

ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس:
وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ کوئٹہ کے دوران بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن معاونت کا عزم کیا۔

ا جلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مولانا عبدالواسع، مولانا اسعد محمود، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، بی این پی کے سربراہ سردار محمد اختر مینگل، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، قائم مقام گورنر بلوچستان جان محمد جمالی اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں غربت کی بڑی وجہ روزگار کے مواقع نہ ہونا ہے، جاری منصوبوں میں مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں صوبے کیلئے ایک جامع پیکج کے اعلان کیا گیا، کوسٹل ہائی وے کے اطراف سیاحت کے فروغ اور افرادی قوت کی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے اداروں کے قیام کی تجاویز بھی دی گئیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک بلوچستان ترقی میں باقی صوبوں تک نہیں پہنچ جاتا، چین سے نہیں بیٹھوں گا، بلوچستان کے معدنی وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کی عوام کا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آف دی گرڈ منصوبوں سے بلوچستان میں بجلی کی قلت کا مسئلہ حل کیا جائے گا، جاری ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے کیونکہ تمام منصوبوں پر عملدرآمد بلوچستان کا بینہ کے تعاون سے ہی ممکن ہے، شمالی یا جنوبی نہیں بلوچستان نہیں، پورے صوبے کی مجموعی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا، بلوچستان کے طلبہ و طالبات کیلئے وظائف کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کرونگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37894
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں