Wednesday, 22 April, 2026
ہم کب تک چین اور سعودیہ سے مانگتے رہیں گے، شہباز شریف

ہم کب تک چین اور سعودیہ سے مانگتے رہیں گے، شہباز شریف

 اسلام آباد - وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کرتے رہیں گے؟ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، آئی ایم ایف سے تمام شرائط طے ہوگئیں اگر کوئی نئی شرط نہ آئی تو معاہدہ جلد ہوجائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آپ کو اعتماد میں لینے کے لیے بلایا ہے، گزشتہ حکومت کو ساڑھے تین سال عوام کا کوئی خیال نہیں آیا، ہمارا موقف تھا کہ ہم انتخابی اصلاحات کرکے الیکشنز کی طرف جائیں گے لیکن اب اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حکومت 14 ماہ کی مدت پوری کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان نے نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں، پٹرول سستا کرنے کے لیے گزشتہ حکومت نے کوئی فنڈنگ نہیں کی، حکومت میں آنے کے بعد سے متعدد چینلنجز کا سامنا ہے، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں اس قوم کی حالت بہتر کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں  نے کہا کہ خدا اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت بدلنے کے اٹھ کھڑی ہو، اس قوم کو اللہ تعالی نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال رکھا ہے، ایک مثال ریکوڈک ہی ہے جس سے ہم اب تک استفاد نہیں کرسکے یہ قوم کا نہیں بلکہ قیادت کا قصور ہے اس معاملے کو غلط طریقے ہینڈل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم لیوی تیس روپے بڑھانے کا معاہدہ کیا، عمران خان کی حکومت نے اربوں روپے کی سبسڈی دے کر خزانہ خالی کردیا اور کارٹلز کو فائدہ پہنچایا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم اگر فیصلہ کرلیں کہ تاریخ کا رخ موڑنا ہے تو اللہ تعالی بھی مدد کرے گا، ہم کب تک چین سے مانگتے رہیں گے، سعودی عرب ہمارا بھائی ہے لیکن وہ کب تک ہماری مدد کرے گا؟ چین اور سعودی عرب کہتے ہوں کہ ہم کب تک اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے؟

وزیراعظم نے کہا کہ پہلے ریاست ہے اور بعد میں سیاست، اگر خدانخواستہ ریاست کو کچھ ہوا تو سیاست بھی نہیں رہے گی، گزشتہ حکومت نے قوم کا وقت اور وسائل برباد کیے، گزشتہ حکومت کے غلط فیصلوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا اور ہمیں اشیا کی قیمتیں بڑھانی پڑیں۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی معاہدہ کیا جائے وہ تسلیم کرنا پڑتا ہے یا تو معاہدہ کیا ہی نہ جائے، آج آئی ایم ایف کہتا ہے کہ ہم آپ پر کیسے اعتبار کریں؟  گزشتہ حکومت نے ہم سے جو معاہدہ کیا اس پر عمل نہیں ہوا۔

شبہاز شریف نے کہا کہ میں قوم سے غلط بیانی نہیں کروں گا اور سچی بات کروں گا، قوم کو ہرگز دھوکا نہیں دوں گا اور یہ نہیں کہوں کہ ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے، اربوں ڈالر پاکستان لے آئیں گے اور نیا پاکستان بنادیں گے، ہم پرانا قائد اعظم والا پاکستان ہی بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے تقریباً تمام شرائط طے ہوچکی ہیں اگر کوئی نئی شرط عائد نہیں ہوئی تو جلد معاہدہ ہوجائے گا لیکن آئی ایم کے معاہدے کے نتیجے میں کیا راتوں رات مہنگائی آجائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں ہے، ہمیں اپنا مالیاتی نظام مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں اسلامی ممالک سے تجارت کے ذریعے بھی مدد ملے گی، لیکن یہ ہماری اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شبانہ روز محنت کریں اور خواہشات کو قربان کردیں، ہم ہمت کرکے وہ فیصلے کریں جس سے ملک خوشحال کی جانب گامزن، ابھی مشکلات آنی ہیں ہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار امیر افراد کی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ہم صاحب ثروت افراد کی نیٹ انکم پر ٹیکس عائد کرنے جارہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے چین کو بھی ناراض کیا، دوست ممالک کو ناراض کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ یہ ہے نیا پاکستان؟ آپ چین سے مدد لیں اور اس پر الزامات بھی عائد کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9969
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں