Tuesday, 21 April, 2026
مہنگائی: سمجھ نہیں آتا منہ چھپا کر کہاں جاؤں؟ شہباز شریف

مہنگائی: سمجھ نہیں آتا منہ چھپا کر کہاں جاؤں؟ شہباز شریف

کراچی - وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی اتنی ہے کہ سمجھ نہیں آتا منہ چھپا کر کہاں جاؤں؟ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے۔کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بزنس مین طبقے کی پاکستان کے لیے بہت بڑی خدمات ہیں، جب ہم نے حکومت سنبھالی تو مہنگائی زوروں پر تھی، گزشتہ سال تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا جس نے تباہی مچائی، حالیہ سیلاب کا اکانومی پر تباہ کن اثر پڑا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا، کورونا کے دوران ایل این جی کی قیمتیں تین ڈالر تھیں لیکن معاہدے نہیں کیے گئے، ایل این جی معاہدے نہ کرنے پر پاکستان کو نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کو توڑ دیا تھا، جس کے بعد آئی ایم ایف نے کڑی شرائط لگائیں، آئی ایم ایف کی تباہ کن شرائط ماننا پڑیں، دوست ممالک کی مدد سے آئی ایم ایف معاہدے میں جو گیپ تھے پورے کر دیئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک پاکستان کے لیے بے پناہ اچھی خواہشات رکھتے ہیں، چین نے اپنے کمرشل لون رول اوور کر کے دوستی کی مثال قائم کی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک سال سے سیاسی عدم استحکام سب کے سامنے ہے، جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا معاشی استحکام کیسے آئے گا؟ اقتصادی طور پر بے پناہ چیلنجز ہیں، بجٹ آ رہا ہے، تسلیم کر رہا ہوں مہنگائی اتنی ہے کہ سمجھ نہیں آتا منہ چھپا کر کہاں جاؤں۔

شہباز شریف نے کہا کہ غریب کے منہ میں نوالہ نہیں ہے، غریب چاہتا ہے اسے ریلیف ملے، جذبات سے بھرا ہوا ہوں، دل سے باتیں کر رہا ہوں، وہی زمانہ آنا چاہیے جب پاکستان کا دنیا میں طوطی بولتا تھا، کہاں گیا وہ وقت اس وقت کوواپس لانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج کھلی باتیں کر رہا ہوں، پاکستان بنانے کے لیے بڑی عظیم قربانیاں دی گئیں، 47ء کا پاکستان جن مقاصد کے لیے بنا تھا آج وہ کہاں ہے؟ پچھلے ایک سال میں معاشرے کے ہر طبقے میں تقسیم پیدا ہوئی، اس تقسیم نے پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کو وہ ہو گیا جو دشمن کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، قوموں کی زندگیوں میں حادثات ہوتے ہیں لیکن کبھی ایسے واقعات نہیں ہوئے، پاکستان میں احتجاج ہوئے لیکن کبھی کسی نے اس طرح ملک دشمنی نہیں کی، 1965ء میں بھارت بھی ایسا نہ کر سکا۔

شہباز شریف نے کہا کہ تب تک ترقی نہیں ہوسکتی جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا، ترقی پاکستان کے سیاسی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  84182
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں