Friday, 09 December, 2022
ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد، پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد، پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب


 اسلام آباد - سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رکھا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رولنگ کیس کی سماعت کی۔

ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کے وکیل عرفان قادر عدالت میں پیش ہوئے اور حکومتی بائیکاٹ سے متعلق بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے عدالتی کارروائی کا مزید حصہ نہیں بنیں گے، ہم فل کورٹ درخواست مسترد کرنے کے حکم کیخلاف نظر ثانی دائر کرینگے۔
یہ کہہ کر عرفان قادر سپریم کورٹ سے واپس چلے گئے۔ وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے اور کہا کہ پی پی پی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کیس لٹکانے سے زیادہ کچھ نہیں تھا، ستمبر کے دوسرے ہفتے سے پہلے ججز دستیاب نہیں، گورننس اور بحران کے حل کیلئے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں، آرٹیکل 63 اے کے مقدمہ میں پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کا کوئی ایشو نہیں تھا۔
 
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت کے سامنے 8 جج کے فیصلہ کا حوالہ دیا گیا، آرٹیکل 63 اے سے متعلق 8 ججز کا فیصلہ اکثریتی نہیں ہے، جس کیس میں 8 ججز نے فیصلہ دیا وہ 17 رکنی بینچ تھا، آرٹیکل 63 سے فیصلہ 9 رکنی ہوتا تو اکثریتی کہلاتا، فل کورٹ بنچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
 
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے، کیا سترہ میں سے آٹھ ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟۔

’عدالتی بائیکاٹ کرنے والے شائستگی کا مظاہرہ کریں، عدالتی کارروائی سنیں‘

چیف جسٹس نے پرویز الہی کے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں، دوسرا راستہ ہے کہ ہم بینچ سے الگ ہو جائیں، عدالتی بائیکاٹ کرنے والے گریس (شائستگی) کا مظاہرہ کریں، بائیکاٹ کردیا ہے تو عدالتی کارروائی کو سنیں، دوسرے فریق سن رہے ہیں لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے، اس وقت انکی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے اقوام متحدہ میں مبصر ممالک کی ہوتی ہے۔
 
علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں ترمیم کیخلاف درخواستیں 13/4 کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں، اس کیس میں جسٹس جواد خواجہ نے آرٹیکل 63 اے کو خلاف آئین قرار دیا تھا، ان کی رائے تھی کہ آرٹیکل 63 اے ارکان کو آزادی سے ووٹ دینے سے روکتا ہے، ان کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹری  پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ ۔ وکیل نے جواب دیا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ ۔ وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ 2002 میں سیاسی جماعتیں کے قانون میں پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہوا۔
 
جسٹس اعجازالااحسن نے کہا کہ پارلیمنٹری پارٹی کی جگہ پارلیمانی لیڈر کا لفظ محض غلطی تھی، کیا ووٹنگ سے پہلے چوہدری شجاعت کا خط پارلیمانی پارٹی کے  اجلاس میں پڑھا گیا یا نہیں۔

وکیل علی ظفر نے دلائل دیے کہ پارٹی سربراہ کا پارٹی پر کنٹرول کا کوئی سوال نہیں ہے، پارٹی کے اندر تمام اختیارات سربراہ کے ہی ہوتے ہیں، لیکن آرٹیکل 63 میں ارکان کو ہدایت دینا پارلیمانی پارٹی کا اختیار ہے، پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات دے سکتا ہے لیکن ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا، ووٹ کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے کرنا ہے، عائشہ گلالئی کیس میں قرار دیا گیا کہ پارٹی سربراہ یا اس کا نامزد نمائندہ نااہلی ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ تو واضح ہے کہ اگر کسی ممبر کو ضمیر کے مطابق پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ نہیں دینا تو استفی دے کر دوبارہ آ جائے، عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ تو آپ کے موکل کے خلاف جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اختیارات پارٹی ہیڈ کے ذریعے ہی منتقل ہوتے ہیں، لیکن ووٹنگ کیلئے ہدایات پارلیمانی پارٹی سربراہ جاری کرتا ہے، کل عدالت میں بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا، سپریم کورٹ کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی پابند ہے؟۔

علی ظفر نے کہا کہ کوئی قانون سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن فیصلے کا پابند نہیں بناتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کتنے منحرف ارکان نے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا؟۔

وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ بیس میں سے 16 نے ن لیگ، دو نے آزاد الیکشن لڑا، جن 18 نے الیکشن لڑا ان میں سے 17 کو شکست ہوئی۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ فریق دفاع کے مطابق منحرف ارکان کے کیس میں ہدایات پارٹی ہیڈ عمران خان نے دی اور اگر الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم ہوا تو 25 ارکان بحال ہو جائیں گے اور حمزہ کے ووٹ 197 ہوجائیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ طے ہو چکا، اب مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ عدالت کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا حکمران اتحاد کے بائیکاٹ کے فیصلے سے وفاقی حکومت الگ ہوگئی ہے؟ ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 27 اے کے تحت عدالت کی معاونت کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی معاونت کیلئے سب کو ویلکم کرینگے۔

عامر رحمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے فیصلے میں واضح ہے ووٹ شمار نہیں ہوگا، ہدایات پارلیمانی پارٹی یا پارٹی صدر دیگا اس پر وضاحت نہیں۔ جسٹس منیب اختر نے ٹوکا کہ آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی واضح لکھا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے ہر عدالت کیلئے ماننا ضروری ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے پر عملدرآمد لازمی نہیں۔

سپریم کورٹ میں وزیراعلی پنجاب کے الیکشن پر ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت مکمل ہوگئی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو آج شام پونے 6 بجے سنایا جائے گا۔

گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکمنامہ:
علاوہ ازیں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔ تحریری حکمنامہ تین صفحات پر مشتمل ہے جس میں فیصلہ سنایا گیا کہ دوران سماعت فریقین کے وکلا نے فل کورٹ کے حوالے سے گزارشات کیں، ہم نے وکلا کو فل کورٹ کے حوالے سے گھنٹوں سنا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کیس میں صرف ایک ہی قانونی نکتہ شامل ہے، کہ آیا 63 ون بی کے تحت پارلیمانی سربراہ ہدایات جاری کر سکتا ہے یا پارٹی کا سربراہ، شجاعت حسین، پیپلز پارٹی اور ڈپٹی اسپیکر کے وکلا نے پارٹی ہیڈ کے ہدایات جاری کرنے کے حق میں دلائل دیے۔

تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ کیس تفصیلی سننے کے بعد فل کورٹ بھجوانے کی حد تک استدعا مسترد کرتے ہیں، دوران سماعت فریقین کے وکلا نے گزارشات کے لیے مذید مہلت کی استدعا کی جسے منظور کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  42450
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اسد عمر، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیری مزاری
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہےکہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آرہا، آئندہ ہفتے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردوں گا۔ اسلام آباد میں سینیٹر اعظم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ کل فیصلہ آگیا کہ عمران نیازی ایک سرٹیفائیڈ چور اور خائن ہے، عمران خان کی نا اہلی کوئی خوشی کا وقت نہیں بلکہ مقام عبرت ہے، اسلام آباد میں کسی سرٹیفائیڈ چور کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا۔فیٹف کا 2 روزہ اجلاس پیرس میں ہوا جس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا جائزہ لیا گیا۔ فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے سے پاکستان کیلئے غیرملکی فنڈنگ کا حصول آسان ہو جائے گا۔

مقبول ترین
صدر مملکت عارف علوی نے اہم تقرریوں سے متعلق سمری پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر ہوگئے ہیں۔
سینئر صحافی اور اینکرپرسن ارشد شریف کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کردی گئی ۔ نماز جنازہ خطیب فیصل مسجد پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد الیاس نے پڑھائی، سیاسی، سماجی رہنمائوں، صحافی برادری سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
سینئر صحافی ارشد شریف کی موت گولیاں لگنے کے بعد دس سے تیس منٹ کے اندر واقع ہوئی۔ ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، ارشد شریف کی لاش کا اندرونی و بیرونی تفصیلی معائنہ کیا گیا، ارشد شریف کے جسم کے مختلف اعضا کے نمونے لئے گئے۔
پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اسد عمر، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیری مزاری

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں