Friday, 24 April, 2026
’’ایران کا برائے نام وزیر خارجہ ہوں، جواد ظریف‘‘

’’ایران کا برائے نام وزیر خارجہ ہوں، جواد ظریف‘‘

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی خارجہ پالیسی پر پاسداران انقلاب کے کنٹرول کا انکشاف ہوا ہے۔

جواد ظریف نے بتایا کہ ’قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی جو سمندرپار کارروائیوں کے ذمہ دار تھے، نے وسیع تر خارجہ پالیسی کو براہ راست اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔‘ قاسم سلیمانی کی وجہ سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں پوری طرح انجام نہیں دے سکا۔ سلیمانی سفارت کاری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے۔ 

سلیمانی گذشتہ سال جنوری میں بغداد میں امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران انٹرنیشنل کے مطابق جواد ظریف نے کہا کہ ’سلیمانی کے اثر و رسوخ کا مطلب یہ تھا وہ ایسی سفارت کاری چاہتے تھے جو خطے میں ایران کی عسکری کارروائیوں کی حمایتی ہو۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’دوسری جانب میں کبھی بھی سلیمانی کو ایسا کچھ کرنے کے لیے نہیں کہہ سکا جو میرے سفارتی اقدامات کے مطابق ہو۔‘

انہوں نے سلیمانی پر ان کی ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کی قومی ایئر لائن کو شام میں نقل و حمل کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’سلیمانی کے دباؤ کی وجہ سے دمشق جانے والی پروازوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔ ایرانی ایئرلائنز کی بڑی تعداد پر شام میں بشارالاسد کی حمایت میں اسلحہ لے جانے کے لیے پابندی لگی۔‘

چینل کے مطابق یہ انٹرویو صحافی سعید لیلاز کو مارچ میں دیا گیا تھا تاہم اسے صدر حسن روحانی کے اگست میں دفتر چھوڑنے کے بعد شائع کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا۔

جواد ظریف نے بتایا کہ ’ایران سفارت کاری پر اپنی جنگی کارروائیوں کو ترجیح دیتا ہے اور ان کا ایران کی خارجہ پالیسی کو متعین کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’سلیمانی کا 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ماسکو کا فوری دورہ معاہدے کو نقصان پہنچانے کے لیے تھا۔‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81886
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 8 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی مذموم کوشش
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں