Thursday, 23 April, 2026
وزیراعظم شہبازشریف تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

وزیراعظم شہبازشریف تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے


اسلام آباد - وزیراعظم شہبازشریف 13 رکنی وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے 3 روزہ سرکاری  دورے پر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ گورنر مدینہ فیصل بن سلمان آل سعود نے اعلیٰ سعودی حکام کے ہمراہ وزیر اعظم کا استقبال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزرا  بلاول بھٹو زرداری،  شاہ زین بگٹی، چوہدری سالک حسین،خواجہ آصف، مفتاح اسماعیل، مریم اورنگزیب،  خواجہ آصف اور  ایم این اے محسن داوڑ  شامل ہیں، وفد میں وزیراعظم شہباز شریف کے پرسنل اسٹاف کے 4 لوگ بھی شامل ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزیراعظم سعودی ولی عہد  شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر 3 روزہ دورے پر سعودی عرب گئے ہیں۔

وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

وزیر اعظم روضہ رسول ﷺپر حاضری دیں گے اور عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے، دورے کے دوران وزیراعظم سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری جیسے تعلقات کو فروغ دینےکے علاوہ سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

ملاقات میں دونوں فریقین باہمی دلچسپی کے امور خاص طور پر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

میڈیا کا کہنا ہےکہ وزیراعظم دورے میں مجموعی طورپر ساڑھے 7 ارب ڈالر کے پیکج پربات کریں گے اور سعودی عرب سے رواں سال کے آخر تک 4 ارب ڈالر کی ادائیگیاں مؤخر کرنےکی درخواست کریں گے۔

میڈیا کے مطابق وزیراعظم سیف ڈپازٹ کے طورپرمزید 2 ارب ڈالرپاکستان کے اکاؤنٹ میں رکھوانے کی درخواست کریں گے جب کہ مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی ایک ارب ڈالر سے  بڑھا  کر  2 ارب ڈالرکرنے کی درخواست کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  35397
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں