Thursday, 23 April, 2026
دھمکی آمیز خط بھیجنے والے ملک کا نام لیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے، وزیراعظم

دھمکی آمیز خط بھیجنے والے ملک کا نام لیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے، وزیراعظم

 اسلام آباد - وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دھمکی آمیز خط بھیجنے والے ملک کا نام بتا دیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے، مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایم کیوایم حکومت کے پاس واپس آجائےگی، جس کے بعد عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری جگہ لینے کی کوشش کرنے والوں کوکنٹرول کیاجاسکتا ہے، ملک کو فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو ’دھمکی آمیز‘ خط کے مندرجات سے آگاہ کیا اور مراسلہ نہیں دکھایا۔ عمران خان نے کہا کہ خط خفیہ دستاویزہے اسی لئے آپ لوگوں سے صرف مفہوم شیئرکیا گیا، اس کے مندرجات من وعن نہیں بتاسکتا اور نہ ہم اس ملک کانام نہیں لےسکتے ہیں جس کےاعلیٰ حکام کی طرف سے ہمیں خط کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کانام بتانے کی صورت میں نتائج اچھے نہیں ہوں گے، خط کا پیغام باضابطہ سرکاری میٹنگ کے دوران موصول ہوا، پیغام کی زبان بہت سخت ہے اور اُس میں تحریک عدم اعتماد کا متعدد بار ذکرکیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی ملک کےخلاف نہیں ہوں، یوکرینی صدرنے معاملے کے حل کیلئے کردارادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ عمران خان نے کہا کہ بہت ساری چیزیں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی وجہ سے نہیں بتا سکتے تاہم اسے پارلیمان میں پیش کریں گے۔ میڈیا کے مطابق خط میں وزیراعظم کے دورہ روس کا حوالہ بھی دیا گیا، خط میں بتایا گیا تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو سب معاف کر دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ خط میں لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، خط میں کئی بار تحریک عدم اعتماد جبکہ ملکی خارجہ پالیسی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ صحافیوں کو بریف کیا گیا کہ خط کو عسکری قیادت کے ساتھ شیئر کیا جا چکا ہے۔

وزیراعظم نے کہا قوم سے خطاب کروں گا لیکن استعفے کی بات نہیں ہوگی، ایم کیو ایم جلد واپس آجائے گی اور پھر عدم اعتماد کی بازی پلٹ جائے گی۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ خط کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ صبح ای پاسپورٹ اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے دھمکی آمیز خط سینئر صحافیوں اور اپوزیشن اتحاد کے قائدین کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد صحافیوں کا وفد وزیراعظم ہاؤس پہنچا تو انہیں ایک گھنٹہ انتظار کے بعد خط دکھانے سے معذرت کرلی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  61901
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں