Tuesday, 11 December, 2018
اپنی حفاظتی بیلٹ باندھ لیں

اپنی حفاظتی بیلٹ باندھ لیں
محمود شام کا کالم

 

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوے

آپ سب کو مبارک ہو۔ پاکستان پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹارہا ہے۔ میاں شہباز شریف حراست میں لے لئے گئے۔ آغاز ہفتہ کراچی اسٹاک ایکسچینج بہت نیچے چلی گئی۔ لوگ سمجھے کہ یہ گرفتاری کا ردّ عمل ہے۔ لیکن اسٹاکس کے ایک بڑے بروکر نے کہا کہ نہیں یہ مندی تو حکومت کی آئی ایم ایف جانے نہ جانے کی گومگو کی کیفیت کی وجہ سے ہے۔ اگلے دن جب یہ اعلان آگیا کہ ہم آئی ایم ایف جارہے ہیں تو اسٹاک مارکیٹ اچھلنے لگی۔

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بارِ منتِ درباں کئے ہوے

ہم کیسی قوم ہیں کہ قرض لینے اور قرض ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔ آتی جاتی حکومتیں یہی خوش کن اعلانات کرتی رہی ہیں۔ مقابلہ ہوتا ہے کہ ہم نے اتنا قرضہ اتنی آسان شرائط پر لے لیا۔ پچھلی حکومت تو یہ نہیں کرسکی تھی۔ پورا نظام ایسا بنادیا گیا ہے کہ قومیں مالیاتی اداروں کی مرضی کے بغیر نہیں چل سکتیں۔ آزادی۔ خود مختاری صرف مفروضے ہیں۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف، اقوام متحدہ کے مختلف ادارے یہ طے کرتے ہیں کہ آپ کو زندگی کیسے گزارنی ہے۔ آئی ایم ایف آپ سے کیا مانگے گا۔ پانی کی صحیح قیمت لگائو۔ بجلی کے دام بڑھائو۔ گیس کے نرخوں میں اضافہ کرو۔ اپنے روپے کی اوقات کا تعین کرو۔ مارکیٹ میں ڈالر 133روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین اس کی اصل قدر 150روپے بتارہے ہیں۔ ماہرین معیشت، بینکار، صنعت کار، تاجر سب بڑے آسودہ حال ہیں۔ ڈالر خدانخواستہ 200روپے کا بھی ہوجائے تو انہیں فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے پاس آئندہ کئی برسوں کے اخراجات کا محفوظ انتظام ہے۔ ملک میں، ہر شہر میں، ہر ملک کے کسی نہ کسی شہر میں ان کے بنگلے ہیں۔ بیرونی بینکوں میں بھی پیسے پڑے ہیں۔ آئی ایم ایف سے وصال کے بعد مہنگائی کی جو سونامی آئے گی وہ تو اس اکثریت کو اپنی لپیٹ میں لے گی جو غربت کی لکیر سے نیچے بھی ہے اور اوپر بھی ۔ لگی بندھی تنخواہوں سے دس بارہ افراد کا کنبہ چلایا جاتا ہے۔ اور جو روزانہ اجرت پر زندگی گزارتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ چند ہزار کی تنخواہ میں گھر کا کرایہ، کھانا پینا، بیماری، غمی خوشی کا کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں۔

کہیں سے اچھی خبر نہیں آرہی۔ ایک انگریزی اخبار میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا ایک اشتہار نظر آیا ہے ۔ غالباً پہلا خوشامدی اشتہار ہے۔ صنعت کو گیس کی کم نرخوں پر فراہمی کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ وزیراعظم، وزیر خزانہ، وزیر پیٹرولیم، مشیر تجارت ٹیکسٹائل کی مسکراتی تصویروں کے ساتھ وزیر اعظم کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ آپ کی کرشماتی قیادت میں ٹیکسٹائل صنعت 30بلین ڈالر کا ہدف حاصل کرلے گی۔ جس سے موجودہ 17بلین ڈالر کا خسارہ ختم ہوجائے گا۔

اپٹما کے منہ میں گھی شکر۔ اس اشتہار سے اندازہ ہوا کہ حکومت تبدیل ہوگئی ہے اور وہ چاہےتو کچھ اچھا کام بھی کرسکتی ہے۔ یہ تو ہمارے تجزیہ کار اور ماہرین ہی بتائیں گے کہ سستی گیس سے کتنی صنعتیں اپنے پیداواری ٹارگٹ پورا کرسکیں گی۔میاں نواز شریف کے زمانے میں بھائی جان ایس ایم منیر کو ٹڈاپ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا تو ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔میں نے وہاں یہی کہا تھا ایس ایم منیر کی تقرری سے اندازہ ہوتا ہے کہ میاں صاحب چاہیں تو اچھے کام بھی کرسکتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل میں نے مایوسی ظاہر کی تھی کہ تفریحی ٹی وی چینلوں پر ڈراموں میں سازشی کردار ہی چھائے ہوئے ہیں۔ ایماندار اور راہ راست پر چلنے والے سازشوں کا شکار ہورہے ہیں۔ سازشی بے نقاب نہیں ہورہے ہیں۔ اب ایک ڈیڑھ ہفتے سے سازشی کردار اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ شوہروں اور بیویوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہورہی ہیں۔ اپنے حریفوں کو اغوا کرکے تشدد کرنے والے معذور ہورہے ہیں۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کررہے ہیں۔ میں اسے بھی اچھا شگون سمجھتا ہوں ۔ ادھر جو حقیقی زندگی میں ہم دیکھتے ہیںکہ قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔ سرکاری خزانہ لوٹنے والے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔ اب یقیناً ان پر بھی برا وقت آنے والا ہے۔بقول فواد چوہدری، بڑے ڈاکو پکڑے جانے والے ہیں۔

پُر امید ہونے میں کیا حرج ہے۔

کیا یہ ہمارے لئے طمانیت کا باعث نہیں ہونا چاہئے کہ اس وقت سب ادارے فعال ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس ہورہے ہیں ۔ سینیٹ میں اہم مسائل پر بحث ہورہی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں میں دھواں دھار تقریریں سننے میں آرہی ہیں۔ عدلیہ سے کیسے کیسے ولولہ انگیز فیصلے‘ جریدہ عالم پر ثبت ہورہے ہیں۔ مسلّح افواج کے غوری میزائل کے تجربے کامیاب جارہے ہیں۔ اس سے زیادہ آئین پر مکمل عملدرآمد کیسا ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام اپنی پوری جلوہ آرائیوں سمیت آگے بڑھ رہا ہے۔

لیکن وہ غالب نے کہا ہے :
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

ایک واضح روڈ میپ نہ ہونے کی وجہ سے خود حکمراں بھی بد حواس رہتے ہیں اور عام طبقے بھی۔ گرمی ختم ہورہی ہے۔ احتجاج کے لئے سازگار موسم آرہے ہیں۔ تیاریاں ہورہی ہیں۔ اپوزیشن نیب کے سخت رویے کے خلاف متحد ہورہی ہے۔ میڈیا میں بھی بے چینی ہے۔ چہ میگوئیاں، سرگوشیاں، قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ مالی بحران ڈالر کی سرکشی نے بھی پیدا کیا ہے۔ سرکاری اشتہارات کے بلوں کی عدم ادائیگی۔ معیشت ڈانواڈول ہے تو اس کے اثرات بھی میڈیا پر مرتّب ہورہے ہیں۔ نظیری نیشا پوری یاد آرہے ہیں۔

بزیر شاخ گل افعی گزیدہ بلبل را
نواگران نخوردہ گزند را چہ خبر

گلاب کی ٹہنی کے نیچے ایک بڑے سانپ نے بلبل کو ڈس لیا ہے۔ وہ مغنی۔ جنہیں کوئی گزند نہیں پہنچی ہے انہیں کیا خبر ہے۔

بلبل تو اس حادثے کی وجہ سے خاموش ہے۔ اپنے گیت نہیں الاپ سکتی۔ لیکن دوسرے گلوکار جنہیں کوئی اذیت نہیں پہنچی وہ تو نغمہ سرائی میں مصروف ہیں۔ قوم ہو یا میڈیا۔ ابھی تو بٹا ہوا ہے۔ درد کی شدت محسوس نہیں کرتا۔ نظیری ہی کا ایک اور شعر ہے :

گریزداز صف ماہر کہ مرد غوغا نیست
کسے کہ کشتہ نہ شداز قبیلۂ ما نیست

ہماری صفوں سے دور ہی رہتا ہے جو جراتمند نہیں ہے جو مارا نہ جائے وہ ہمارے قبیلے سے نہیں ہے۔ اسی شعر سے متعلق علامہ اقبال نے اس تحسین کا اظہار کیا تھا۔

بملک جم نہ دہم مصرع نظیری را
کسے کہ کشتہ نہ شداز قبیلۂ ما نیست

(میں بادشاہ وقت کی سلطنت کے عوض بھی نظیری کا یہ مصرع نہیں دوں گا کہ جو مارا نہ جائے وہ ہمارے قبیلے سے نہیں ہے) اب دیکھیں قبیلے والے کیا فیصلے کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  69631
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ہم 1947میں ہجرت سے بچ گئے مگر ہمارا گائوں تقسیم ہوگیا۔ ہمارے گائوں میں سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو زمینوں کا ایسا بٹوارہ ہوا کہ ہماری کچھ زمین بھارت میں چلی گئی اور سردار مولا سنگھ کی کچھ زمین
کوئی سے دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی یا یوں کہیں کہ باقاعدہ جنگ نہیں ہو رہی لیکن اس سر زمین پر کئی ایسے مقام مل جاتے ہیں جہاں کسی نہ کسی صورت میں جنگ ہو رہی ہے اور دو ملک ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ ہیں۔
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ایک محاورہ ہے اور ہم لوگ گزشتہ 70برس سے مختلف ادوار میں اس محاورے کو فقرے میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ متذکرہ محاورے کو فقرے میں استعمال کرنے والے امتحانی نقطہ نظر سے ایسا نہیں کرتے۔
برلن ہوٹل کے استقبالیہ پر کھڑی خوبصورت حسینہ سے ہوٹل کا وزٹنگ کارڈ مانگا تو جواب آیاno english only german بڑی مشکل سے اس کے ایک ساتھی کی مدد سے اسے سمجھایا کہ بی بی! ہوٹل کے کچھ وزٹنگ کارڈ دے دیں ہمیں راستوں کا معلوم نہیں۔

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
خیبرپختونخوا حکومت پر براجماں تبدیلی کے دعویداروں نے بے روز گار نوجوانوں پر بم گرانے کی تیاری کر لی۔ خیبر پختون خوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں ملازمین کیلئے مدت ملازمت
میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے بذریعہ موٹروے اسلام آباد پہنچا دیا گیا، وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا تبادلہ کرکے انہیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدر تعینات کیا گیا ہے جب کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان کو نیا کور
چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچستان بار میں اپنے خطاب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی تعمیرآنے والی نسلوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں