Wednesday, 19 February, 2020
’’کربلا سرچشمہ تہذیب اسلامی: البصیرہ اور ادارہ فکر جدید کے زیر اہتمام منعقد ہ سیمینار‘‘

’’کربلا سرچشمہ تہذیب اسلامی: البصیرہ اور ادارہ فکر جدید کے زیر اہتمام منعقد ہ سیمینار‘‘

اسلام آباد ۔ ہم کربلا سے سبق سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے تہذیب اسلامی کو فرعونی تہذیب بننے سے بچایا جائے، آج تہذیب اسلامی کو سب سے بڑا خطر ہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر فتح محمد ملک سابق ریکٹر اسلامی یونیورسٹی نے البصیرہ اور ادارہ فکر جدید کے زیر اہتمام منعقد ہ سیمینار کربلا سرچشمہ تہذیب اسلامی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلامی اس تہذیب کو بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ عالم اسلام میں کہاں کہاں یزید بیٹھے ہیں، ہمیں اسلام کو بچانا ہے۔ ہمیں سانحہ کربلا کو آج کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ آج عالم اسلام یزیدان عصر کے قبضے میں ہے اور کشمیر و فلسطین ان یزیدان عصر سے لڑ رہا ہے ہمیں اپنے کردار کا تعین کرنا ہے۔ہمیں تہذیب اسلامی پر پڑنے والی مشکل گھڑی کو شہیدان کربلا کے اقدامات کی روشنی میں نبرد آزما ہونا ہے۔ ہم نے مودی اور یہودی سے عالم اسلام کو آزاد کروانا ہے۔ 

تقریب کے مہمان خصوصی جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم نے کہا کہ مولانامودودی سے کسی نے پوچھا کہ امام حسین نے یزید کی بیعت کیوں نہ کی تو مولانا نے فرمایا کہ سوال کو درست کریں اگر حسین نے بیعت نہیں کی تھی تو باقی لوگوں نے کیوں کی تھی؟جس کی زندگی رسول اکرم ؐ کی گود میں گزری ہو وہ بھلا کیسے یزید کی بیعت کر سکتا ہے؟ امام حسین نے نہ صرف ایک تاریخی فیصلہ لیا بلکہ تہذیب اسلامی کے لیے عزیمت کا ایک راستہ طے کر دیا۔ یزید خلافت کے نظام کے خلاف آیا تھا اس نے بیت المال کو اپنا مال سمجھ لیا تھا۔ خلافت و ملوکیت اسی موضوع پر تحریر کی گئی ہے۔ اگر آج پاکستان کے ہوتے ہوئے کشمیر پر مودی مسلط ہے تو یہ پاکستان کی کمزوری ہے، آج بہتر سال گزر گئے ہیں کوئی کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرنے والا نہیں ہے۔ یہ اسلامی حکومت نہیں ہے یزیدیت کی حکومت ہے۔

اسلامی تحریک پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا امام حسین نے تہذیب اسلامی کے تحفظ کے لیے جدو جہد کی، جبکہ ان کے مخالف گروہ اس تہذیب کو مٹانے کے لیے سرگرم عمل تھا۔ امام حسین ؑ نے فتح و شکست کے معیارات کو بدل دیا، امام نے بتایا کہ بڑے ہدف کے لیے جان، مال، اولاد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ تہذیب اسلامی کس قدر گراں بہا سرمایہ ہے۔ دنیا میں جہاں بھی ظلم کے خلاف جدوجہد ہوئی وہاں حسین ابن علی ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔کربلا کی خواتین بھی ہمارے لیے رول ماڈل ہیں جنہوں نے شہادتوں کے بعد بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے لیے کوئی موقع ضائع نہ کیا اور نہ ہی کمزوری دکھائی۔آج فلسطینی اور کشمیری حسینی کردار ادا کررہے ہیں ہم سب اپنے فلسطینی اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ 

البصیرہ کے سربراہ اور پروگرام کے میزبان سید ثاقب اکبر نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کلمہ استرجاء وہ کلمہ ہے جو امام حسین ؑ نے مدینہ سے کربلا کے سفر کے دوران پڑھا، جب آپ کے بیٹے نے امام سے سوال کیا کہ اس کلمے کے پڑھنے کی کیا وجہ ہے تو امام نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی صدا دے رہا ہے کہ یہ قافلہ موت کی جانب جارہا ہے۔اس وقت امام کے بیٹے نے پوچھا کہ بابا کیا ہم حق پر نہیں ہیں تو امام نے جواب دیا کہ ہیں تو بیٹے نے کہا کہ پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم موت پر جا پڑیں یا موت ہم پر آن پڑے۔کلمہ استرجاء وپوری زندگی کا ہدف و مقصد ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہما ری مکمل زندگی خدا کے لیے ہی ہے۔

تقریب میں ان شرکاء کے علاوہ نور الہدی ٹرسٹ کے سربراہ علامہ امتیاز رضوی، جماعت اہل حدیث کے مرکزی راہنما پروفیسر خالد سیف اللہ، جامعہ الرضا کے استاد علامہ نعیم الحسن نقوی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے استاد علامہ طاہر اسلام عسکری، کشمیری راہنما خواجہ شجاع عباس، اصلاحی تحریک کے راہنما آصف تنویر ایڈووکیٹ،مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ امور خارجہ کے رکن علامہ ضیغم عباس، مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ تبلیغات کے رکن علامہ علی شیر انصاری، معروف شاعر اختر عثمان، تحریک منہاج القرآن کے رکن شہباز عباسی، جامعہ المصطفی کے استاد مولانافرحت حسین، ادارہ فکر جدید کے رکن رانا تنویر عالمگیر، رشاد بخاری، بلوچستان پروگریسو فورم کے سربراہ میر نجف علی بلوچ،البصیرہ شعبہ خواتین کی ڈائریکٹر سید ہ ہما مرتضی،تحریک منہاج القرآن ویمن ونگ کی رہنما راضیہ نقیب، مجلس وحدت یوتھ راولپنڈی کی راہنما سیدہ قندیل کاظمی، سید ہادی ایڈووکیٹ نیز سول سوسائٹی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم عباس نے انجام دیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  40355
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عزیزان! ایک واقعہ ایک جوان کا جو کہ ایک شراب سے بھرا ہوا مرتبان اٹھا کر جا رہا تھا کہ راستے میں پیغمبر خدا ص سے ملاقات ہو گئی وہ جوان سخت پریشان ہو گیا کیونکہ اس وقت شراب کے حرام ہونے کا حکم آ چکا تھا۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں میڈیا کے سامنے ایک امن منصوبہ کا اعلان کیا ہے جس کو مغربی ذرائع ابلاغ پر مغربی ایشیاء کے لئے امن پلان کا نام دے کر تشہیرکی گئی۔
شہید بینظیربھٹو ہیومن رائٹس سینٹر فار وومن سے گزشتہ 10 سال کے دوران 43سوسے زائد خواتین نے رابطہ کیا اور 3707 خواتین کو گھریلو تشدد،جسمانی ہراساں کرنے، پراپرٹی میں حصہ نہ دینے کی شکایات پرریلیف
گوادر جوکہ بلوچستان کا ایک جنوبی ساحلی شہر ہے اور تین اطراف سمندر میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ ایک جزیرہ نما شہر ہے۔ اور گوادر بلوچستان کی ساحلی شہر ہونے کے ساتھ سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے بھی کہلاتا ہے

مزید خبریں
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیریس کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کے بیان کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا غیر جانبدارانہ تبصرہ دیرپا پاکستانی موقف کا حامی ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ تمام انٹرنیشنل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کمپنیاں پاکستان میں کام جاری رکھیں گی اور حکومت ان کے تحفظات دور کرے گی۔سوشل میڈیا کے حوالے سے متعارف کروائی گئی حالیہ ’پابندیوں‘ پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ان قواعد کے نفاذ سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی ہدایت کردی۔
ایرانی عدالت کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے میڈیا کو بتایا کہ 10 شہریوں کو ریاست مخالف سرگرمیوں اور امریکا کی جاسوسی کے الزام میں دس سال تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان افراد کو 2018 میں حراست میں لیا گیا تھا۔
افغان الیکشن کمیشن نے ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے حتمی سرکاری نتائج کا اعلان 5 ماہ بعد کر دیا ہے، اشرف غنی ایک مرتبہ پھر دوبارہ ملک کے صدر بن گئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں