Wednesday, 15 April, 2026
معیشت / دہشتگردی: قومی اتفاق رائے کی ضرورت، آرمی چیف

معیشت / دہشتگردی: قومی اتفاق رائے کی ضرورت، آرمی چیف

راولپنڈی - آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے ایک انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور اس کے لیے معیشت اور دہشت گردی کے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں 118ویں مڈشپ مین اور 26ویں شارٹ سروس کمیشن کی کمیشننگ پریڈ میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر مہمان خصوصی تھے۔ جہاں پاکستان نیول اکیڈمی پہنچنے پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

آرمی چیف نے تربیت کی کامیابی سے تکمیل اور پاکستان کی میری ٹائم سرحدوں کے محافظ بننے پر کمیشننگ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی۔

اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ میری ٹائم ڈومین مسلسل بدل رہی ہے، تکنیکی ترقی کی وجہ سے صرف وہی بحری افواج غالب ہوں گی اور موثر ثابت ہوں گی جو پیشہ ورانہ مہارت اور جنگ کے جدید رجحانات سے ہم آہنگ ہوں گی۔

آرمی چیف نے پاکستانی کیڈٹس اور دوست ممالک کے کیڈٹس کو معیاری تعلیم دینے پر پاکستان نیول اکیڈمی کو سراہا، آرمی چیف نے نوجوان افسران کو مستقبل کے لیڈروں کے طور پر اپنے طرز عمل، کردار، پیشہ ورانہ ذہانت اور دور اندیشی سے رہنمائی کرنے کا مشورہ دیا۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اپنے ایک انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور اس کے لیے معیشت اور دہشت گردی کے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

مہمان خصوصی نے انعام یافتگان میں انعامات تقسیم کئے۔ لیفٹیننٹ کاشف عبدالقیوم پی این کو ان کی مجموعی بہترین کارکردگی پر قائداعظم گولڈ میڈل دیا گیا

مڈشپ مین نوفیل ملک کو ان کی مجموعی بہترین کارکردگی پرتلوار سے نوازا گیا۔ بعد ازاں آرمی چیف نے ملیر گیریژن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ علاوہ ازیں آرمی چیف نے ملیر گیریژن میں کراچی کور، رینجرز اور دیگر سی اے ایف کے افسران سے بھی خطاب کیا اور جدید جنگ کے پیشے اور تقاضوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41728
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
حکومت نے عیدالاضحیٰ کے لیے تعطیلات کا باضابطہ اعلان کردیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 4 ملکی دورہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان پہنچ کر عیدالاضحیٰ کے موقع پر 4 چھٹیوں کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی حکومت نے عید الفطر کی مناسبت سے ملک بھر میں پانچ روز کی عام تعطیل کا اعلان کردیا۔ عید الفطر کی تعطیلات کا آغاز 21 اپریل بروز جمعے سے 25 اپریل بروز منگل تک ہوگا۔ اس ضمن میں وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہنگامی حالت کے بغیر آرڈیننس کے اجرا کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے تین پیسے تک اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 159 روپے 86 پیسے تک پہنچ جائے گی۔ میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں