Saturday, 15 August, 2020
آیت اللہ خامنہ ای: مظلوم کشمیریوں کی حمایت اور ردعمل

آیت اللہ خامنہ ای: مظلوم کشمیریوں کی حمایت اور ردعمل
فائل فوٹو
ثاقب اکبر

 

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گزشتہ دنوں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں دو مرتبہ پے درپے گفتگو کی اس کی بازگشت ابھی تک دنیا میں جاری ہے۔ اگرچہ وہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت میں آواز بلند کرچکے ہیں بلکہ وہ خود سرینگر کا 1981میں دورہ بھی کر چکے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ان کی طرف سے کشمیر کے ذکر کو خاص پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔

عیدالفطر کے روز 26جون2017کو تہران میں عید کا خطبہ دیتے ہوئے انھوں نے عالم اسلام کے مسائل کا ذکر کیا۔ اس دوران میں انھوں نے امت اسلامی کے مختلف مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی اور ان کے خلاف جاری ظلم و ستم کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ امت اسلامیہ کو ان مظلوموں کی حمایت میں کھڑا ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے دوستوں اور دشمنوں کو واضح طور پر پہچاننا چاہیے اور ان کے بارے میں ایک واضح موقف بھی اختیار کرنا چاہیے۔ انھوں نے علمائے اسلام اور روشن فکر افراد پر خاص طور پر زور دیا کہ وہ اپنے اللہ کی رضا کے لیے اور طاغوت کے خوف کے بغیر ان مسائل کے بارے میں اپنے موقف کا اعلان کریں۔
3جولائی 2017کو آیۃ اللہ خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کا اس وقت ذکر کیا جب وہ ایران کی اعلیٰ عدلیہ کے اراکین سے میٹنگ کررہے تھے جس میں ایران کے چیف جسٹس آیت اللہ صادق آملی لاریجانی بھی موجود تھے۔ انھوں نے اپنے ملک کی عدلیہ سے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعات اور ان جیسے دیگر مسائل کا قانونی پہلو سے جائزہ لیں اور اس طرح کے بین الاقوامی مسائل پر ایک سرکاری نقطۂ نظر اختیار کریں۔

گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مسلم امہ کو تشویش ہے۔ انھوں نے او آئی سی کے جنرل سیکرٹری کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی مذمت کا ذکر کیا اور مزید کہا کہ اس سے پہلے اسی ہفتے میں ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے ملک کی عدلیہ سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیں۔ انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان کا خیر مقدم کیا۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے بزرگ راہنما سید علی گیلانی نے بھی ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت کیے جانے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انھوں نے امام خامنہ ای کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا اور دنیا کے تمام انصاف پسند ممالک، اداروں اور با اثر افراد سے اپیل کی کہ وہ بھی مظلوم کشمیری قوم کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل و غارت اور جبر و زیادتی کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے ایران کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ملک جس طرح سے فلسطینی عوام کی عملی مدد کررہا ہے، اسی طرح وہ آنے والے وقت میں کشمیریوں کی بھی مدد کرے گا اور بین الاقوامی فورموں پر ان کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے آواز اٹھائے گا۔ سرینگر سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں سید علی گیلانی نے کہا کہ ایران کے انقلابی راہنما امام خمینیؒ نے بھی اپنے وقت میں کشمیری قوم کی کھل کر حمایت کی تھی۔ سید علی گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں مسائل امت مسلمہ کے مسائل ہیں اور ان کاحل طلب ہونا مسلم دنیا میں جاری بے چینی اور افراتفری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں خطوں میں مسلمانوں کی ایک منصوبہ بند طریقے سے نسل کشی کی جارہی ہے اور ان کے مذہبی شعائر اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔

مزید برآں کشمیر کی تحریک حریت کے ممتاز راہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی کشمیر کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے پر ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کا شکریہ ادا کیا۔ 27جون کو جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں انھوں نے سید علی خامنہ ای کو اس امر پر خراج تحسین پیش کیا کہ انھوں نے پوری امت مسلمہ کو کشمیر کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے کی دعوت دی ہے۔ 

ایک طرف عالم اسلام میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ان بیانات کا خیر مقدم کیا جارہا ہے تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اور حکومت کی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کے بیانات کے بعد ہندوستان ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ خامنہ ای نے اپنے خطبے میں ہندوستان کا شمار بھی عالم اسلام کے مشترکہ دشمنوں کی صف میں کیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ فلسطین کو عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ قراردینے کے بعد انھوں نے مختلف دلائل کی بنیاد پر کشمیر کا ذکر بھی کیا۔ وہ دراصل کشمیر اور ہندوستان کے مسلمانوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ اخبار کے مطابق ایران روایتی طور پر کشمیر کے بارے میں ہندوستان کی پالیسی کا مخالف رہا ہے اور اس سلسلے میں او آئی سی میں بڑھ چڑھ کر اس مسئلے میں ہندوستان کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران کو ہندوستان اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تحفظات ہیں۔ نیز ایران کو مودی کے حالیہ دورہ امریکا کے دوران میں ان کے اور ٹرمپ کے مابین سامنے آنے والے دوستانہ تعلقات پر بھی تشویش ہے۔ 
دنیا کے مختلف اخبارات میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے کشمیر کے لیے خصوصی جذبات کو ماضی کی تاریخ کے حوالے سے بھی بیان کیا جا رہاہے۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار کیہان کے مطابق سید علی خامنہ ای نے 1981ء میں کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ اس سفر سے واپسی پر 26فروری 1981ء کو انھوں نے تہران کے خطبہ جمعہ میں ہندوستان کے دورے کا ماحصل بیان کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت کے شہروں میں ہمیں جانے کا موقع ملا۔ انھوں نے خاص طور پر کشمیر کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہاں ہم نے نماز جمعہ ادا کی اور جب ہم نے لوگوں سے خطاب کیا تو انھوں نے ایسے جذبات کا اظہار کیا اور ہماری تقریر کے بعد سڑکوں پر یوں نکلے کہ ہمیں لگا کہ جیسے ہم تہران میں ہوں۔ 

اس ساری صورت حال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عوام اس امر کے پیاسے ہیں کہ ان کے قائدین مسلمانوں کے حقیقی مسائل کے لیے آواز بلند کریں اور ان کے حل کرنے کے لیے ایک قدم اٹھائیں۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ جب مشرق و مغرب کی مسلمان قیادت اس امر میں ہم آواز ہو جائے گی تو پوری امت اسلامیہ کو اپنے پیچھے کھڑا پائے گی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

آیت اللہ خامنہ ای: مظلوم کشمیریوں کی حمایت اور ردعمل
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا 1981 میں دورہ کشمیر کا منظر
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43217
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ہم شروع ہی میں اپنے عام قارئین کے لیے یہ بات واضح کردیں کہ احکام اخلاق و نظام اخلاق اورعلم اخلاق دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم روزمرہ ’’اخلاق‘‘ کے حوالے سے جس موضوع سے واقف ہیں وہ احکام اخلاق سے متعلق ہے اور مختلف مکاتب فکر و نظر ان احکام پر مشتمل اپنا اپنا نظام اخلاق رکھتے ہیں۔
یہ سوال اب کوئی نیا نہیں رہا کہ مذہب ایک مشکل ہے یا مشکل کا حل۔ اشتراکی فکر کا آغاز اسی نظریے سے ہوا کہ مذہب انسانی ترقی میں حائل ہے۔ مذہب ایک افیون ہے، مذہب کو ترک کیے بغیر تنزل یافتہ معاشرہ ارتقا پذیر نہیں ہوسکتا۔ اشتراکیت نے مذہب کے خلاف بڑی جنگ لڑی، یہاں تک کہ آدھی دنیا کو فکری طور پر ہی نہیں عملی طورپربھی تسخیر کر لیا۔
ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقاؤں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنماؤں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے۔
کشمیریوں کی تحریک آزادی باقاعدہ 1931 میں شروع ہوئی جو 2020ءتک جاری و سار ی ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسئلہ کشمیر دنیا کا پیچیدہ ترین مسئلہ ہے جسے حل کرنے کےلئے سنجیدگی کو سمجھنا ضروری ہے ۔

مقبول ترین
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباﺅ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔یہ معاہدہ ہمارے حکمرانوں کیلئے بھی ایک سبق ہے جو کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پر راضی ہوگئے تھے۔
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں